Pages

Friday, 23 August 2013



تمہارے شاگرد کا شاگرد اگر کبھی تمہارا اُستاد
 ہوا کرتا تھا تو آج بھی اُسے اپنا اُستاد ہی سمجھو

ازقلم : ساحل فخر


مکمل تحریر >>

Monday, 19 August 2013

ساحل فخر کا تعارف


خاکسار اپنے بارے میں کیا کہئے کیا لکھئے،محنت مزوری کرتا ہوں
 جو محبت خلوص چاہت سے ہم کلام بھی ہو جائے تو بڑی خوشی ھوتی ہے
 اور ادب سے وابسطہ شخصیت مجھ سے بات کرے تو میرے پاس الفاظ نہیں
کہ اُن کے خلوص کو اُسی خلوص سے جواب دوں یہ اُنہی کی محبتیں ہیں

اور خدا پاک کا کرم فضل ہے
وگرنہ خاکسار کی اتنی اوقات کہاں،

اگر کسی پُر خلوص دوست احباب کو میرا کلام میری تحریریں میرے اقوال اچھے لگتے ہیں
 تو میرے پیج لائک کرنے کی زحمت کریں

مائی پیج
http://www.facebook.com/SahlFkhr?
ref=hl

دُعا گو ھوں
(جو جہاں رہے خوش رہے)
خدا پاک ہم سب کا حامی و ناصر ھو آمین ثم آمین جزاکءاللہ

بڑی حیرت ہُوئی کہ عشق بازاروں میں بکتا ہے
چلو ساحِل میاں جی کوچ کرتے ہیں خرابوں کو
مکمل تحریر >>

زندگی کا پہیہ


اچانک کار کے پنکچر ہونے کا سانحہ پیش آ گیا ، میں بے ساختہ کار سے نیچے  اُترا اپنا چشمہ لگایا اور دوسرا ایکسٹرا ٹائر لگانے کی سوچنے لگا لیکن  مجھے اچانک یاد آیا کہ ایکسٹرا ٹائر تو پہلے ہی پنکچر پڑا ہے میں ابھی یہ  سوچ ہی رہا تھا کیا کروں کہ مجھے یک دم یہ دیکھ کر سکون ملا کہ پنکچر کی  دوکان مجھ سے کچھ ہی فاصلے پر ہے۔

اِس سے پہلے کہ دیر ہوجاتی میں فوراً اُس دکان پر گیا اور دکاندار سے مسئلہ بیان کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔

دکاندار " جناب کیا آپ کی گاڑی میں گاڑی اُٹھانے کیلئے جیک ہے "

میں نے حیرت انگیز لہجے میں کیا " نہیں یار وہ تو شاید نہیں ہے "

دکاندار " تو جناب پھر آپ کی گاڑی کا ٹائر کیسے تبدیل کیا جائے "

میں کچھ کہنے کیلئے سوچ ہی رہا تھا کہ دکاندار نے تین(3) آدمی بلائے جو کہ پاس والی دکان میں ملازم تھے اور میری گاڑی کی طرف چل دیے۔

وقت  تیزی سے گزر رہا تھا ، مجھے آج سے پہلے کبھی وقت کے اِس قدر تیز گزرنے کا  احساس نہیں ہوا تھا ، اور ہوتا بھی کیوں ناں آج میں نے آفس سے اِس لئے جلدی  چھٹی کی تھی کہ اپنے اکلوتے بیٹے عدنان کو سائیکل خرید کر دینی تھی کیونکہ  رات کو اُس نے رو رو کر اپنی ضد منوا لی تھی۔

جیسے ہی میں ،  دکاندار اور وہ تین افراد گاڑی کے پاس پہنچے تو دکاندار نے کہ " جناب آپ  ڈرایئونگ سیٹ پر بیٹھیئے " اُن چار آدمیوں نے گاڑی کو دھکا لگا کر جیسے  تیسے دکان پر پہنچا دیا ، دکاندار نے اپنا کام شروع کیا ، اسی دوران میں  بےچینی کو اپنے دماغ میں محسوس کر رہا تھا اور ، وقت گزاری کیلئے کچھ سر و  سامان کی تلاش میں دکاندار سے پوچھنے لگا ــــــــــ" یار یہاں کوئی بچوں  کی سائیکلوں کی دکان نہیں ؟؟ "

دکاندار نے پسینہ پونچتے  ہُوئے کہا " جناب بالکل ہے ، بس یہاں سے آٹھ (8) دکانیں چھوڑ کر نوویں دکان  پچوں کی سائیکلوں کی ہی دکان ہے "

میں بے اِختیاری دکاندار  کو یہ کہہ کر اُس کی دکان سے نکل آیا کہ " یار تم اِس کو ٹھیک کرو میں اپنے  بیٹے کیلئے سائیکل دیکھنے جا رہا ہوں "

میں جلدی جلدی میں  اُس دکان پر پہنچا تو رنگ برنگی سائیکلیں نظر آئیں اور میری بے چینی بھی  خاصی کم ہونے لگی ، میں ابھی سائیکلیں دیکھ ہی رہا تھا کہ مجھے دکان کہ  اندر سے آواز آئی ــــــــ"بی بی جی میں اتنی رعایت نہیں کر سکتا آپ کو چار  سو روپے اور دینے ہوں گے"

میرے چہرے پر ہلکا سا تجسُس تھا  کہ آخر کیا ہو رہا ہے ، جیسے ہی میں دکان کہ اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ ،  ایک جوان عورت جو تقریباً ستائیس (27) سال کی لگ رہی تھی اور ایک چھوٹا  ننھا منا بچہ جو تقریباً پونے تین یا تین سال کا ہو گا اس عورت کا بیٹا  تھا۔

خاتون بولی "بھائی میرے پاس اب اور پیسے نہیں ہیں ، میں  غریب ہوں گھروں میں کام کرتی ہوں ایک ایک پیسہ اکھٹا کر کے اپنے بیٹے کی  سائیکل لینے کی ضد پوری کرنا چاہ رہی ہوں ، میں غریب ضرور ہوں لیکن اپنے  بیٹے کی خوشی دیکھنا چاہتی ہوں ، میں بقایا پیسے آپ کو پھر دے دوں گی "

خاتون  ایسے بولتی رہی جیسے کہ دکاندار سے کسی اپنے کی زندگی کی بھیک مانگ رہی ہو  لیکن دکاندار کو کوئی خاص فرق نہیں پڑ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوکاندار " اچھا اچھا بی بی جی آپ کو سو روپے چھوڑتا ہوں "

خاتون " بھائی میرے پاس یہی پچاس (50) روپے رہ گئے ہیں اور گھر جانے کا کرایہ بھی یہی ہے "

دکاندار " بی بی تین سو روپے تو آپ کو دینے ہی ھوں گے ادھار میں نہیں کرتا "

یہ  جواب سن کر عورت کے چہرے پر سخت افسردگی چھا گئی اور دوکاندار کو دیے ھوۓ  پیسے لے کر واپس جانے لگی تو بچے نے جانے سے انکار کر دیا سائیکل کو پکڑ  لایا خاتون نے بچے کا ہاتھ چھڑوایا لیکن بچے نے سائیکل کو پھر پکڑ لیا آخر  اُس عورت نے ایک ہلکا سا تھپڑ بچے کی گال پر مارا اور تقریبا گھسیٹتے ھوۓ  باہر لے جانے لگی یہ منظر دیکھ کر مجھے بہت ترس آرہا تھا اور یہ دیکھتے  ہوئے مجھے اپنے بیٹے کا رونا یاد آ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے چینی کی لہریں میرے ضمیر کے ساحل سے ٹکرا رہیں تھیں اور یکایک میں نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے عورت کو مخاتب کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"  ٹھہریئے بہن جی !! اور آگے بڑھ کر اس کے بچے کو گود میں اٹھا لیا اور بچے  کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا ، بیٹا آپ کو سائیکل چاہیئے تو میں لے دیتا ہوں  " 

خاتون حیرت سے مجھے دیکھ رہی تھی ، میں نے سائیکل کی قیمت  پوچھی تو دکاندار نے کہا جناب بارہ سو پچاس (1250) روپے ، تو میں نے اپنا  بٹوا نکال کر دوکاندار کو پیسے تھما دیے۔بچہ سائیکل لے کر بہت خوش ہو رہا  تھا ، سائیکل بچے کی عمر کے مطابق تھی ، سائیکل کے پچھلے ٹائر کے ساتھ  سواری کو گرنے سے بچانے والے دو چھوٹے ٹائر لگے ہوۓ تھے ، بچے کو سائیکل  چلاتا دیکھ کر اُس عورت کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ عورت خستہ لہجے میں  میرا شکریہ ادا کرنے لگی ۔بولی کہ " بھائی آپ بڑے لوگ بھی فرشتوں کی طرح  ہیں ، جس کی چاہے مدد کرتے ہیں ، پتا نہیں آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں ،  اللہ نے آپ کو فرشتہ بنا کر بھیجا ہے ، آپ نے آج مجھے اور میرے بیٹے کو بہت  خوشی دی اللہ آپ کو تمام خوشیاں عطا فرمائے۔۔۔۔۔۔۔

آمین بہن جی "غریبوں کی مدد کرنا ہر امیر پر فرض ہے"

میں  نے اُس عورت سے اجازت طلب کی اور واپس پنکچر والی دوکان کی طرف بڑھنے لگا ،  ابھی کچھ ہی قدم چلا تھا کہ اچانک مجھے ایک بچے کے رونے کی آواز سنائی دی  میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو وہی بچہ سڑک کے درمیان گرا پڑا تھا سائیکل  بھی ایک طرف گری پڑی تھی میں اس معاملے کو سمجھتا کہ میری نظر ایک طرف گرے  سائیکل کے ساتھ لگے چھوٹے ٹائر پہ پڑی جو سائیکل سے ٹوٹ کر الگ ہو چکا تھا ،  سائیکل کے ناقص ہونے کی وجہ سے ٹائر چند منٹ بھی بچے کا وزن برداشت نہ کر  پایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عورت جوکہ سڑک کے کنارے لگی ایک سبزی کی  ریڑی پر کھڑی تھی ، دوڑ کر اپنے بچے کے پاس پہنچی ہی تھی کہ قسمت کے کھیل  کا اِس طرح آغاز ہونا تھا ، میں نے خیال میں بھی نہیں سوچا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عورت  نے بچے کو اُٹھانا چاہا ، اتنے میں دور سے تیز رفتار ڈبل ویل ٹرک آتا نظر  آیا عورت جب تک بچے کو اٹھا کر اٹھتی ٹرک بہت قریب آ چکا تھا ، ٹرک جس طرح آ  رہا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی دن میں بھی شراب پی کر چلا رہا ہے ، اس  سے ٹھیک سے ڈرائیونگ بھی نہیں ہو پا رہی تھی ، بس یہی وقت تھا کہ عورت اٹھ  کر جلدی سے آگے بڑھی لیکن (قسمت کا کھیل جس کا آغاز تو ہو چکا تھا لیکن  اِختتام ہونا باقی تھا ایک فلم کی طرح منظر رونما کر رہا تھا) کہ سائیکل کا  جو ٹوٹا ٹائر پڑا تھا اُس میں ایک کیل نما لوہا جو کہ اُوپر کی طرف اُبھرا  ہُوا تھا وہ لوہا عورت کے پاؤں میں دھنس گیا 

وہ عورت ایک  زور دار چیخ مارتے ہوۓ گر گئی بچہ گود سے نکل کر اس کے ساتھ سڑک پر گر گیا  تب تک ٹرک بہت قریب آ چکا تھا اس نے اٹھنے کی بہت سی ناکام کوششیں کیں مگر  اب بہت دیر ہو چکی تھی ٹرک طوفانی رفتار سے قریب آیا پہلے بچہ کی ٹانگین  پھر پیٹ پر چڑھتے ہوئے بچے کا ننھا سا سر کچل دیا اور بچے کو زمین کا حصہ  بنا دیا ، بچے کو بے دردی سے تڑپتا چھوڑ کر آگے بڑھا خاتون کے سر کو روندتا  ہوا گزرتا چلا گیا ، میں بت بن کر کھڑا دیکھتا رہ گیا سوچھنے سمجھنے کی  صلاحیت ختم ہو چکی تھی چند لمہوں میں معصوم بچا جس نے شاید دنیا میں آکر  ڈبل ویل بھی پہلی بار دیکھا ہو گا جلد ہی دنیا کو الواع کہہ گیا ایک غیریب  بیوہ ایک یتیم بچے کا باب ہمیشہ کے لۓ بند ہو کر رہ گیا ۔

تحریر از قلم ، ساحل فخر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکمل تحریر >>